ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / منگلورو میں امسال سائبر کرائم کے شکار افراد نے 26 کروڑ روپے گنوائے 

منگلورو میں امسال سائبر کرائم کے شکار افراد نے 26 کروڑ روپے گنوائے 

Sat, 17 Aug 2024 12:22:41    S.O. News Service

منگلورو، 17 / اگست (ایس او نیوز) منگلورو پولیس کمشنر انوپم اگروال کے مطابق شہر میں آن لائن فراڈ اور سائبر کرائم کی وارداتوں کا گراف ہر سال بڑھتا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں امسال 24  جولائی تک منگلورو میں سائبر کرائم کا شکار ہونے والے افراد نے 26 کروڑ روپے گنوائے ہیں ۔
    
سائبر کرائمس کے سلسلے میں بیداری کے لئے منگلورو سٹی پولیس کی طرف سے منعقدہ پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے سٹی پولیس کمشنر انوپم اگروال نے بتایا کہ منگلورو میں سال 2022  کے دوران سائبر کرائم کا شکار ہونے والے افراد نے جملہ 36 لاکھ روپے گنوائے تھے ۔ سال 2023 میں یہ رقم بڑھ کر 11.29 کروڑ روپے ہوگئی ۔ جبکہ امسال گزشتہ چند مہینوں کے اندر رجسٹرڈ کیے گئے معاملوں میں یہ رقم 26 کروڑ روپے ہوگئی ہے۔ 
    
انہوں نے کہا کہ "جہاں ٹیکنالوجی نے انسانوں کو بہت فائدہ پہنچایا ہے وہیں پر دھوکہ بازوں کے لئے سیدھے سادے انسانوں کو ٹھگنے کے راستے کھول دئے ہیں ۔ سائبر کرائم کا جنون بڑھتا جا رہا ہے ۔ پولیس ایسے معاملات سے نپٹنے کے لئے اپنی صلاحیت بڑھانے کے اقدامات کر رہی ہے ۔ لیکن ہم چاہتے ہیں کہ عوام بھی ٹیکنالوجی کا استعمال پوری احتیاط کے ساتھ کریں ۔ سائبر کرائم کے جو معاملے پیش آ رہے ہیں ان میں بڑی تعداد شیئر مارکیٹ میں سرمایہ کاری سے متعلق ہیں جس کا شکار ڈاکٹرز، انجینئرز اور تاجر حضرات ہو رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ پارٹ ٹائم جاب کے نام پر کئی گھریلو خواتین کو بھی لوٹا گیا ہے ۔''
    
پولیس کمشنر نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال 60 ایسے معاملے درج ہوئے تھے جس میں بہار سے دھوکہ بازی کا دھندا چلانے والوں نے  آدھار کارڈ کے ذریعے ادائیگی کا سہارا لیتے ہوئے تقریباً ایک لاکھ روپے لوٹے تھے ۔ 
    
اس موقع پر بولتے ہوئے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سورتکل کے ایسوسی ایٹ پروفیسر موہیت تاہلیانی نے کہا کہ عوام کو اپنا پاس ورڈ وقتاً فوقتاً تبدیل کرنے، استعمال کی ضرورت نہ رہنے پر وائی فائی سوئچ آف کرنے اور رقم کی ادائیگی کے لئے پبلک وائی فائی کا استعمال نہ کرنے جیسے سائبر سیکیوریٹی سے متعلق اصولوں پر عمل کرنا چاہیے ۔ 


Share: